17 اگست 2011 - 19:30

امام خمینی (ره) تعلیم و تربیت ادارہ کے صدر نے غلطی کے کم کرنے کو تباہی سے بچنے کا راستہ جانا ہے اور وضاحت کی، جتنا کم گناہ کرے نگے اتنا ہی روح کے بیکھرنے سے نجات حاصل ہوگی اور خدا کی اطاعت کے ذریعہ اطمینان حاصل ہوگی ۔

ابنا: آیت الله محمد تقی مصباح یزدی نے اخلاقی بیان کے سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے آیہ شریفہ « لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِی کَبَدٍ» کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : دنیا کی زندگی مشکلات اور مشقت کے ساتھ ہے ۔ مادی نکتہ نظر سے یہ مشکلات ضروری ہے اور اس کو قبول کرنا بھی ضروری ہے ۔

انہوں نے وضاحت کی : توحیدی نگاہ میں زندگی کی مشکلات عقلانی تفسیر کے ساتھ ہے ۔ یہ زندگی آخرت کی بنیاد ہے اور مختلف امتحانات کے ساتھ صلاحیتیں پرکھی جاتی ہیں ۔ پھر اس اھم امتحان میں مبتلا ہونا مشکلات اور اچھائیوں کے ساتھ ہے ۔

حوزہ علمیہ قم میں اخلاق کے اس استاد نے دنیا کو حاملہ کے زمانہ سے تعبیر کیا ہے اور بیان کیا : یہ دنیا بنیاد ہے انسان کے نمو کا عالم ابدی و آخرت میں پیدا ہونے کا مگر اس ولادت اور دنیا میں ولادت کا فرق یہ ہے کہ دنیا میں ولادت پانے میں رشد و نمو میں انسان کے اختیار میں کچھ نہی ہے مگر اس دنیا سے آخرت میں رشد و نمو پانے کے لئے انسان مختار ہے اس دنیا میں اصل کردار خود انسان کا ہے وہ خود کو تیار کرے آخرت کے لئے ۔

امام خمینی (ره) تعلیم و تربیت ادارہ کے صدر نے امام محمد باقر علیہ السلام کی روایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا : حضرت نفس کی راحت کو صحت تفویض میں جانتے ہیں ۔ یعنی شخص توحید پر اعتقاد کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرے اور اپنے کام کے ثمرہ کو خدا پر چھوڑ دے ، نہ یہ کہ سستی یا کاھلی کے بنا پر اپنے کاموں کو خدا پر چھوڑے ۔............

/169